رسائی کے لنکس

امریکی سپریم کورٹ:ڈیجیٹل دور میں تقریرکی آزادی کے حقوق


امریکی سپریم کورٹ، فائل فوٹو
امریکی سپریم کورٹ، فائل فوٹو
  • امریکی سپریم کورٹ نے پیر کے روز، دو مقدمات میں ڈیجٹل دور میں آزادانہ تقریر کے حقوق دریافت کرنے کی کوشش کی۔
  • یہ قوانین کمپنیوں کے ایسے مواد کو روکنے کی جو قابل اعتراض سمجھا جاتا ہو میڈیا پلیٹ فارمز کی صلاحیت کو محدود کرتے ہیں۔
  • ججوں کے سامنے دلائل کا سلسلہ جاری ہے۔

امریکی سپریم کورٹ نے پیر کے روز، دو مقدمات میں ڈیجٹل دور میں آزادائ تقریر کے حقوق دریافت کرنے کی کوشش کی ہے۔ ان مقدمات میں فلوریڈا اور ٹیکساس میں ریپبلیکن حمایت یافتہ قوانین کی قانونی حیثیت کے تعین کا معاملہ پیش نظر ہے۔

یہ قوانین کمپنیوں کے ایسے مواد کو روکنے کی، جو قابل اعتراض سمجھا جاتا ہو، میڈیا پلیٹ فارمز کی صلاحیت کو محدود کرتے ہیں۔

ججوں کے سامنے دلائل کا سلسلہ جاری ہے۔

مسئلہ یہ ہے کہ آیا 2021 کے یہ ریاستی قوانین، جو بڑے میڈیا پلیٹ فارمز کے ذریعے مواد کو اعتدال میں رکھنے کے طریقوں کو باضابطہ بناتے ہیں، امریکی آئین کی پہلی ترمیم کے ذریعے کمپنیوں کو آزادی تقریر کا جو تحفظ فراہم کیا گیا ہے، اس کی خلاف ورزی تو نہیں کرتے۔

واشنگٹن ڈی سی میں سماعت کے دوران فیس بک، ٹِک ٹاک، ایکس، یوٹیوب اور دیگر سوشل میڈیا پلیٹ فارمز کے اپنے صارفین کے پوسٹ کردہ مواد کو کنٹرول کرنے کے ضابطوں سے متعلق ریاستی قوانین کا امریکی سپریم کورٹ جائزہ لے رہا ہے

زیریں عدالتیں اس مسئلے پر منقسم تھیں۔ انہوں نے فلوریڈا کے قانون کی اہم دفعات کو بلاک کر دیا جب کہ ٹیکساس میں اس قانون کو برقرار رکھا۔

قدامت پسند چیف جسٹس جان رابرٹس نے فلوریڈا کی وکالت کرنے والے ایک وکیل سے پہلی ترمیم کے حوالے سے تشویش کے بارے میں پوچھا کہ ریاست کی جانب سے اسے باضابطہ بنانے میں کیا قباحت ہے جسے ہم ماڈرن پبلک اسکوائر یا ایسی چیز کہتے ہیں جسے عام لوگ استعمال کرتے ہیں۔

ان قوانین کو ٹیک انڈسٹری ٹریڈ کے نیٹ چوائس اور کمپیوٹر اینڈ کمیونیکیشنز انڈسٹری ایسوسی ایشنز یا سی سی آئی اے نے چیلنج کیا ہے، جس کے ممبران میں فیس بک پیرنٹ میٹا پلیٹ فارمز، الفابیٹ کا گوگل جو یو ٹیوب کا مالک ہے، ٹک ٹاک اور اسنیپ چیٹ کا مالک اسنیپ شامل ہیں۔

قانونی چارہ جوئی کے سبب ان میں سے کوئی بھی قانوں نافذ العمل نہیں ہو سکا۔

ججوں کو یہ فیصلہ کرنا ہے کہ آیا پہلی ترمیم سوشل میڈیا پلیٹ فارمز کی ادارتی صوابدید کو تحفظ فراہم کرتی ہے اور حکومتوں کو کمپنیوں کو ان کی مرضی کے خلاف مواد شائع کرنے پر مجبور کرنے سے منع کرتی ہے۔

ججوں کے لیے ایک اور طے کرنے والا مسئلہ یہ ہے کہ کیا ریاستی قوانین سوشل میڈیا کمپنیوں سے یہ مطالبہ کر کے ان کے آزادانہ تقریر کے حق پر غیر قانونی بوجھ ڈالتے ہیں کہ وہ صارفین کو مواد کی اعتدال پسندی کے بعض فیصلوں کے لیے انفرادی وضاحت فراہم کریں جس میں ان کے پلیٹ فارمز سے پوسٹوں کو ہٹانا بھی شامل ہو۔

صدر بائیڈن کی انتظامیہ جو فلوریڈا اور ٹیکساس کے قوانین کی مخالفت کرتی ہے، دلیل دیتی ہے کہ مواد میں اعتدال کی پابندیاں پہلی ترمیم کی خلاف ورزی کرتی ہیں۔ کیونکہ اس طرح پلیٹ فارم کو مجبور کیا جاتا ہے کہ وہ ایسا مواد پیش کرے اور اسے فروغ دے جسے وہ قابل اعتراض سمجھتا ہے۔

فلوریڈا اور ٹیکساس کے عہدیدار اس کا جواب دیتے ہیں کہ کمپنیوں کی جانب سے مواد میں اعتدال کے اقدامات پہلی ترمیم میں فراہم کیے گئے تحفظ کے دائرے سے باہر ہیں، کیونکہ اس انداز کا طرز عمل جسے وہ سینسر شپ سمجھتے ہیں بجائے خود تقریر نہیں ہے۔

اس رپورٹ کے لیے مواد رائٹرز سے لیا گیا ہے

فورم

XS
SM
MD
LG